Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1845 (سنن ابن ماجہ)

[1845]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْہِرٍ،عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ،قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًی،فَخَلَا بِہِ عُثْمَانُ فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْہُ،فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: ہَلْ لَكَ أَنْ أُزَوِّجَكَ جَارِيَةً بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مِنْ نَفْسِكَ بَعْضَ مَا قَدْ مَضَی؟ فَلَمَّا رَأَی عَبْدُ اللہِ أَنَّہُ لَيْسَ لَہُ حَاجَةٌ سِوَی ہَذَا،أَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِہِ،فَجِئْتُ وَہُوَ يَقُولُ: لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ،لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ،مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ،فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ،وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ،وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ،فَعَلَيْہِ بِالصَّوْمِ،فَإِنَّہُ لَہُ وِجَاءٌ))

حضرت علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں الگ لے گئے،میں پاس بیٹھا تھا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا آپ پسند فرماتے ہیں کہ میں ایک کنواری لڑکی سے آپ کی شادی کروا دوں جس سے آپ کو گزرے وقت کی کچھ باتیں یاد آ جائیں؟ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو محسوس ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کے سوا اور کوئی کام نہیں (جس کے لیے وہ انہیں الگ لے گئے تھے) تو مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔میں حاضر ہوا تو وہ فرما رہے تھے: اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو (اچھی بات ہی کی ہے کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے،اسے چاہیے کہ شادی کر لے،اس کی وجہ سے نظر نیچی رہتی ہے اور جسم (بدکاری سے) محفوظ رہتا ہے۔اور جسے (نکاح) کی طاقت نہ ہو تو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ،خواہش کو کچل دیتا ہے۔