Sunan ibn Majah Hadith 1846 (سنن ابن ماجہ)
[1846] إسنادہ ضعیف
عیسی بن میمون المدني ضعیف
و قال البوصیري: ’’إسنادہ ضعیف لاتفاقھم علی ضعف عیسی ابن میمون المدیني لکن لہ شاھد صحیح‘‘ و حدیث البخاري (5063) و مسلم (1401) یغني عنہ
و روی أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مکاثر بکم)) (2050) و سندہ حسن و روی البزار عن رسول اللہ ﷺ قال: ((یا معشر الشباب ! من استطاع منکم الطول فلینکح أو لیتزوج و إلا فعلیہ بالصوم فإنہ لہ وجاء۔))
(کشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسندہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْہَرِ قَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ مَيْمُونٍ،عَنِ الْقَاسِمِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي،فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي،وَتَزَوَّجُوا،فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ،وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ،وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْہِ بِالصِّيَامِ،فَإِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَاءٌ))
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نکاح میرا طریقہ ہے۔اور جو شخص میرے طریقے پر عمل نہیں کرتا،اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔شادیاں کیا کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بنا پر دوسری امتوں پر فخڑ کروں گا،جو (مالی طور پر) استطاعت رکھتا ہو وہ (ضرور) نکاح کرے اور جسے (رشتہ) نہ ملے،وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ خواہش کو کچل دیتا ہے۔