Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1860 (سنن ابن ماجہ)

[1860]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ،عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ،عَنْ عَطَاءٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَلَقِيتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: ((أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ،قَالَ: ((أَبِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟)) قُلْتُ: ثَيِّبًا،قَالَ: ((فَہَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُہَا؟))،قُلْتُ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ،فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَہُنَّ،قَالَ: ((فَذَاكَ إِذَنْ))

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں،میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا۔(اس کے بعد جب) میری ملاقات اللہ کے رسول ﷺ سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: جابر! کیا آپ نے شادی کر لی؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے۔فرمایا: کنواری سے کیوں نہ کی جس سے تم دل بہلاتے؟ میں نے کہا: میری کئی بہنیں تھیں۔مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل نہ ہو جائے۔آپ نے فرمایا: تب یہ بات (درست ہے۔)