Sunan ibn Majah Hadith 2204 (سنن ابن ماجہ)
[2204] إسنادہ ضعیف
یعلی بن شبیب: لین الحدیث (تقریب: 7842)
لم یوثقہ غیر ابن حبان،و ابن خثیم عن قیلۃ مرسل کما قال الذھبي (الکاشف 433/3)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَی بْنُ شَبِيبٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ،عَنْ قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ،قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ عُمَرِہِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَبِيعُ وَأَشْتَرِي،فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ الشَّيْءَ،سُمْتُ بِہِ أَقَلَّ مِمَّا أُرِيدُ،ثُمَّ زِدْتُ،حَتَّی أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ،وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ الشَّيْءَ،سُمْتُ بِہِ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِي أُرِيدُ،ثُمَّ وَضَعْتُ حَتَّی أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَفْعَلِي يَا قَيْلَةُ إِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبْتَاعِي شَيْئًا،فَاسْتَامِي بِہِ الَّذِي تُرِيدِينَ،أُعْطِيتِ أَوْ مُنِعْتِ،وَإِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبِيعِي شَيْئًا،فَاسْتَامِي بِہِ الَّذِي تُرِيدِينَ،أَعْطَيْتِ أَوْ مَنَعْتِ))
حضرت قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے کسی عمرے کے دوران میں مروہ کے قریب حاضر خدمت ہوئی۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں۔میں جب کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو میں جو (قیمت ادا کرنا) چاہتی ہوں،اس سے کم پر بات کرتی ہوں،پھر بڑھتے بڑھتے اس قیمت پر پہنچ جاتی ہوں جو میرا (اصل) ارادہ ہوتا ہے۔اور جب میں کوئی چیز بیچنا چاہتی ہوں تو میں جو (قیمت وصول کرنا) چاہتی ہوں،اس سے زیادہ کی بات کرتی ہوں،پھر کم کرتے کرتے اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میرا ارادہ ہوتا ہے۔(کیا یہ جائز ہے؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمای: قیلہ! ایسے نہ کیا کرو۔جب کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت پیش کرو جو تمہارا ارادہ ہے،خواہ تمہیں وہ چیز (اس قیمت پر) ملے یا نہ ملے۔اور فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت طلب کرو جو تمہارا ارادہ ہے،پھر خواہ (اس قیمت پر گاہک کے رضامند ہونے پر) فروخت کرو یا(اس کے رضامند نہ ہونے پر) فروخت نہ کرو۔