Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2601 (مشکوۃ المصابیح)

[2601] إسنادہ ضعیف، رواہ البغوي في شرح السنۃ (159/7 ح 1931) [و ابن خزیمۃ (2840 وقال: أنا أبرأ من عھدۃ مرزوق) و ابن حبان (1006)] ٭ أبو الزبیر مدلس و عنعن و حدیث مسلم (1348) یغني عنہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللہَ يَنْزِلُ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاہِي بِہِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَی عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْہِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَہَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ . قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ)) . رَوَاہُ فِي شرح السّنة

جابر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اِن (عرفات میں وقوف کرنے والوں) کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو کس طرح بکھرے بالوں،غبار آلود پاؤں اور بلند آواز سے پکارتے ہوئے دور دراز سے آئے ہیں۔میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا۔تو فرشتے عرض کرتے ہیں،رب جی! فلاں بندہ تو برے کام کیا کرتا تھا،اور فلاں مرد اور فلاں عورت بھی،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اللہ عزوجل فرماتا ہے:’’میں نے انہیں بخش دیا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’عرفہ کے دن کے سوا کوئی ایسا دن نہیں جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزادی ملتی ہو۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ شرح السنہ۔