Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2780 (مشکوۃ المصابیح)

[2780] إسنادہ ضعیف [جدًا]، رواہ الترمذي (1282) و ابن ماجہ (2168) [علي بن یزید: ضعیف جدًا] حدیث جابر یأتي (4128)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلَا تَشْتَرُوہُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوہُنَّ وَثَمَنُہُنَّ حَرَامٌ وَفِي مِثْلِ ہَذَا نَزَلَتْ: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لہْوَ الحَديثِ) رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعلي بن يزِيد الرواي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: نُہِيَ عَن أكل أہر فِي بَابِ مَا يَحِلُّ أَكْلُہُ إِنْ شَاءَ اللہ تَعَالَی

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’گانے والیوں کو بیچو نہ انہیں خریدو اور نہ ہی انہیں تربیت دو،اور ان کی قیمت حرام ہے۔ایسے مسائل کے متعلق یہ حکم نازل ہوا:’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ باتیں خریدتے ہیں۔‘‘ احمد،ترمذی،ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔اور علی بن یزید،راوی حدیث میں ضعیف ہے۔اسنادہ ضعیف جذا،رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔اور ہم جابر سے مروی حدیث: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلی کھانے سے منع فرمایا۔ان شاءاللہ تعالیٰ باب ما یحل اکلہ میں ذکر کریں گے۔