Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3260 (مشکوۃ المصابیح)

[3260] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (142۔ 143)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِہَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ قَالَ: ((طَلِّقْہَا)) . قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْہَا وَلَدًا وَلَہَا صُحْبَةٌ قَالَ: ((فَمُرْہَا)) يَقُولُ عِظْہَا ((فَإِنْ يَكُ فِيہَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

لقیط بن صبرہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے اس کی زبان میں کچھ (نقص) ہے یعنی وہ فحش گو ہے۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے طلاق دے دو۔‘‘ میں نے عرض کیا،میری اس سے اولاد ہے اور اس کے ساتھ ایک تعلق ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے وعظ و نصیحت کرو،اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ نصیحت قبول کر لے گی،اور اپنی اہلیہ کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد۔