Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3265 (مشکوۃ المصابیح)
[3265] صحیح، رواہ أبو داود (4932)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ غَزْوَة تَبُوك أَو حنين وَفِي سَہْوَتِہَا سِتْرٌ فَہَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ فَقَالَ: ((مَا ہَذَا يَا عَائِشَةُ؟)) قَالَتْ: بَنَاتِي وَرَأَی بَيْنَہُنَّ فَرَسًا لَہُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ فَقَالَ: ((مَا ہَذَا الَّذِي أَرَی وَسْطَہُنَّ؟)) قَالَتْ: فَرَسٌ قَالَ: ((وَمَا الَّذِي عَلَيْہِ؟)) قَالَتْ: جَنَاحَانِ قَالَ: ((فَرَسٌ لَہُ جَنَاحَانِ؟)) قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَہَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّی رَأَيْتُ نَوَاجِذَہُ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک یا غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے،اور ان (عائشہ ؓ) کی الماری پر پردہ تھا،ہوا چلی تو اس نے عائشہ ؓ کی گڑیوں اور کھلونوں سے پردہ ہٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’عائشہ! یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: میری گڑیاں ہیں،آپ نے ان میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے کپڑے سے بنے ہوئے دو پَر تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں ان کے درمیان میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: گھوڑا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اور جو اِس کے اُوپر ہے،وہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: دو پَر ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’گھوڑا اور اس کے دو پَر!‘‘ انہوں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان ؑ کا ایک گھوڑا تھا جس کے پر تھے۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں،یہ سن کر آپ مسکرا دیے حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں دیکھیں۔صحیح،رواہ ابوداؤد۔