Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3275 (مشکوۃ المصابیح)

[3275] متفق علیہ، رواہ البخاري (4908) و مسلم (1471/1)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَہُ وَہِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ فَتَغَيَّظَ فِيہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: ((ليراجعہا ثمَّ يمْسِكہَا حَتَّی تطہر ثمَّ تحيض فَتطہر فَإِن بدا لَہُ أَنْ يُطْلِّقَہَا فَلْيُطْلِّقْہَا طَاہِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّہَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللہُ أَنْ تُطْلَّقَ لَہَا النِّسَاءُ)) . وَفِي رِوَايَةٍ: ((مُرْہُ فَلْيُرَاجِعْہَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْہَا طَاہِرًا أَوْ حَامِلًا))

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دی۔عمر ؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر ناراض ہوئے،اور فرمایا:’’اسے چاہیے کہ وہ رجوع کرے،پھر انتظار کرے حتی کہ وہ (ایام حیض گزرنے کے بعد) پاک ہو جائے،پھر حیض آئے،پھر پاک ہو،پھر اگر اسے طلاق دینا چاہے تو اسے حالت طہر میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے،یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے:’’اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے،پھر اسے حالت طہر یا حمل میں طلاق دے۔‘‘ متفق علیہ۔