Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3278 (مشکوۃ المصابیح)
[3278] متفق علیہ، رواہ البخاري (4912) و مسلم (1474/20)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَشَرِبَ عِنْدَہَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْہَا النَّبِيُّ ﷺ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاہُمَا فَقَالَتْ لَہُ ذَلِكَ فَقَالَ: ((لَا بَأْسَ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَلَنْ أَعُودَ لَہُ وَقَدْ حَلَفْتُ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا)) يَبْتَغِي مرضاة أَزوَاجہ فَنَزَلَتْ: (يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللہ لَك تبتغي مرضاة أَزوَاجك) الْآيَة
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زینب بن جحش ؓ کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے،پس میں اور حفصہ ؓ نے طے کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے پاس بھی تشریف لائیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر (کھانے کا گوند جو عرفط پودے سے نکلتا ہے) کی بُو آ رہی ہے،کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ چنانچہ آپ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لے گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ایسی کوئی بات نہیں،میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا ہے،میں دوبارہ اسے نہیں پیوں گا،اور میں نے حلف اٹھا لیا،تم کسی کو اس کے متعلق نہ بتانا۔‘‘ آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے تھے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی:’’اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو کیوں حرام قرار دیا جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے،آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے ہیں؟‘‘ متفق علیہ۔