Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3317 (مشکوۃ المصابیح)

[3317] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (2049) والنسائي (169/6۔ 170 ح 3494۔ 3495) ٭ سند المرفوع صحیح و أعل بما لا یقدح .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِن لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((طَلِّقْہَا)) قَالَ: إِنِّي أُحِبُّہا قَالَ: ((فأمسِكْہَا إِذا)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ النَّسَائِيُّ: رَفَعَہُ أَحَدُ الرُّوَاةِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحَدُہُمْ لَمْ يرفعہُ قَالَ: وَہَذَا الحَدِيث لَيْسَ بِثَابِت

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میری بیوی ہے جو کسی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے طلاق دے دو۔‘‘ اس نے عرض کیا: میں اس سے محبت کرتا ہوں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’پھر اسے اپنے نکاح میں رکھ۔‘‘ اور امام نسائی ؒ نے فرمایا: کسی راوی نے اسے ابن عباس ؓ سے مرفوع نقل کیا ہے اور کسی نے مرفوعاً ذکر نہیں کیا۔چنانچہ امام نسائی کہتے ہیں یہ حدیث ثابت نہیں۔اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد و النسائی۔