Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5757 (مشکوۃ المصابیح)
[5757] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (3607۔ 3608 وقال: حسن) ٭ فیہ یزید بن أبي زیاد: ضعیف مشھور .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن الْعَبَّاس أَنَّہُ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَكَأَنَّہُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللہِ. فَقَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِہِمْ ثمَّ جعلہم فرقتَيْن فجعلني فِي خير فِرْقَةً ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِہِمْ قَبيلَة ثمَّ جعلہ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِہِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُہُمْ نفسا وَخَيرہمْ بَيْتا)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ
عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ (غصے کی حالت میں) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے گویا انہوں نے کچھ (نسب میں طعن) سنا تھا،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تو فرمایا:’’میں کون ہوں؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا،آپ اللہ کے رسول ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں،اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں پیدا فرمایا،پھر اس نے ان کے قبیلے بنائے تو مجھے ان سب سے بہتر قبیلے میں پیدا فرمایا،پھر ان کو گھرانے گھرانے بنایا تو مجھے ان میں سے بہترین گھرانے میں پیدا فرمایا،میں ان سے نفس و حسب کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں اور ان کے گھرانے کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔