Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5759 (مشکوۃ المصابیح)
[5759] إسنادہ حسن، رواہ البغوي في شرح السنۃ (13/ 207 ح 3626) [و أحمد (4/ 127 ح 17280، 4/ 128 ح 17281) و صححہ ابن حبان (الموارد: 2093) و الحاکم (2/ 600) فتعقبہ الذہبي، قال: ’’أبو بکر (ا بن أبي مریم) ضعیف‘‘ قلت: لم ینفرد بہ، بل تابعہ الثقۃ معاویۃ بن صالح عن سعید بن سوید عن ابن ھلال السلمي عن العرباض بن ساریۃ رضي اللہ عنہ بہ وسندہ حسن .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن العِرْباض بن ساريةَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ: إِنِّي عِنْدَ اللہِ مَكْتُوبٌ: خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لِمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِہِ وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ أَمْرِي دَعْوَةُ إِبْرَاہِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَی وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي وَقَدْ خَرَجَ لَہَا نُورٌ أَضَاءَ لَہَا مِنْہُ قُصُورُ الشَّامِ ((. وَرَاہ فِي)) شرح السّنة
عرباض بن ساریہ ؓ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں تو اس وقت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتم النبیین لکھا ہوا ہوں جب آدم ؑ ابھی (ڈھانچے کی حالت میں) مٹی کی صورت میں پڑے ہوئے تھے،اور میں ابھی اپنے معاملے (یعنی نبوت) کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں،میں ابراہیم ؑ کی دعا،عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے قریب دیکھا تھا کہ ان کے لیے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات ان کے سامنے روشن ہو گئے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ فی شرح السنہ۔