Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5771 (مشکوۃ المصابیح)

[5771] إسنادہ ضعیف، رواہ الدارمي (4/1۔ 5 ح 5) ٭ الأعمش مدلس و عنعن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا محمدٌ رسولُ اللہ عَبدِي الْمُخْتَار لَا فظٌّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُہُ بِمَكَّةَ وَہِجْرَتُہُ بِطِيبَةَ وَمُلْكُہُ بِالشَّامِ وَأُمَّتُہُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللہَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللہَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَہُ عَلَی كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُہَا يتأزَّرون علی أَنْصَافہمْ ويتوضؤون عَلَی أَطْرَافِہِمْ مُنَادِيہِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّہُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّہُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَہُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ ((. ہَذَا لَفْظُ)) الْمَصَابِيحِ وَرَوَی الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِير يسير

کعب ؓ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں: محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اللہ کے رسول ہیں،میرے منتخب بندے ہیں،وہ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل،نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں،بلکہ وہ درگزر کرتے اور معاف کر دیتے ہیں،ان کی جائے پیدائش مکہ ہے،ان کی ہجرت طیبہ (مدینہ) کی طرف ہو گی،ان کی حکومت ملکِ شام میں ہو گی،ان کی امت بہت زیادہ حمد کرنے والی ہو گی،وہ خوشحالی و تنگدستی (ہر حال) میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے،ہر بلند جگہ پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر بیان کریں گے،وہ (نمازوں کے اوقات کے لیے) سورج کا خیال رکھتے ہوں گے،جب نماز کا وقت ہو جائے گا تو وہ نماز پڑھیں گے،ان کا ازار نصف پنڈلیوں تک ہو گا،وہ اعضائے وضو تک وضو کریں گے،ان کا مؤذن بلند جگہ پر (کھڑا ہو کر) اذان دے گا،ان کی نماز کے دوران صفیں اور ان کی میدان جہاد میں صفیں برابر ہوں گی،اور رات کے وقت ان (تہجد کے وقت تسبیح و تہلیل) کی آواز اس طرح ہو گی جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے۔‘‘ یہ الفاظ مصابیح کے ہیں،اور امام دارمی نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الدارمی۔