Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5774 (مشکوۃ المصابیح)

[5774] إسنادہ ضعیف، رواہ الدارمي (9/1 ح 14) ٭ فیہ عروۃ بن الزبیر عن أبي ذررضي اللہ عنہ و ما أراہ سمع منہ و قال ابن إسحاق إمام المغازي رحمہ اللہ: ’’حدثني ثور بن یزید عن خالد بن معدان عن أصحاب رسول اللہ ﷺ أنھم قالوا: یا رسول اللہ!أخبرنا عن نفسک؟ فقال: دعوۃ أبي إبراہیم و بشري عیسی و رأت أمي حین حملت بي أنہ خرج منھا نور أضاء ت لہ قصور بصری من أرض الشام و استرضعت في بني سعد بن بکر، فبینا أنا مع أخ في بھم لنا، أتاني رجلان علیھما ثیاب بیاض، معھما طست من ذھب مملوءۃ ثلجًا فأضجعاني فشقابطني ثم استخرجا قلبي فشقاہ فأخرجا منہ علقۃ سوداء فألقیاھا ثم غسلا قلبي و بطني بذاک الثلج حتی إذا أنقیاہ، رداہ کما کان ثم قال أحدھما لصاحبہ: زنہ بعشرۃ من أمتہ فوزنني بعشرۃ فوزنتھم ثم قال: زنہ بألف من أمتہ فوزنني بألف فوزنتھم فقال: دعہ عنک فلو وزنتہ بأمتہ لوزنھم .‘‘ (السیرہ لابن إسحاق ص 103) وسندہ حسن لذاتہ وھو یغني عنہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أبي ذرّ الْغِفَارِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتَّی اسْتَيْقَنْتَ؟ فَقَالَ: يَا أَبَا ذَر أَتَانِي ملكان وَأَنا ب بعض بطحاء مَكَّة فَوَقع أَحدہمَا علی الْأَرْضِ وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ: أَہْوَ ہُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَزِنْہُ بِرَجُلٍ فَوُزِنْتُ بِہِ فَوَزَنْتُہُ ثُمَّ قَالَ: زِنْہُ بِعَشَرَةٍ فَوُزِنْتُ بِہِمْ فَرَجَحْتُہُمْ ثُمَّ قَالَ: زنہ بِمِائَة فَوُزِنْتُ بِہِمْ فَرَجَحْتُہُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْہِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ: فَقَالَ أَحَدُہُمَا لصَاحبہ: لَو وزنتہ بأمتہ لرجحہا . رَوَاہُمَا الدَّارمِيّ

ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! آپ نے کیسے جانا کہ آپ نبی ہیں،حتی کہ آپ نے یقین کر لیا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ابوذر! میرے پاس دو فرشتے آئے جبکہ میں مکہ کی وادی بطحا میں تھا،ان میں سے ایک زمین پر اتر آیا اور دوسرا آسمان اور زمین کے درمیان تھا،ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہ وہی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں،اس نے کہا: ان کا ایک آدمی کے ساتھ وزن کریں،میرا اس کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں اس پر بھاری تھا،پھر اس نے کہا: ان کا دس افراد کے ساتھ وزن کرو،میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھاری رہا،پھر اس نے کہا: ان کا سو افراد کے ساتھ وزن کرو،میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی بھاری رہا،پھر اس نے کہا: ان کا ایک ہزار کے ساتھ وزن کرو،میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی بھاری رہا،گویا ترازو کے ہلکے ہونے کی وجہ سے،میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ مجھ پر گر پڑیں گے۔‘‘ فرمایا:’’ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اگر تم نے ان کا ان کی پوری امت کے ساتھ بھی وزن کر لیا تو یہ اس (امت) پر غالب آ جائیں گے۔‘‘ دونوں احادیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الدارمی۔