Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5788 (مشکوۃ المصابیح)
[5788] متفق علیہ، رواہ البخاري (6281) و مسلم (85۔ 83 / 2331)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَأْتِيہَا فَيَقِيلُ عِنْدَہَا فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْہِ وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَہُ فَتَجْعَلُہُ فِي الطِّيبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا ہَذَا؟)) قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُہُ فِي طِيبِنَا وَہُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ نَرْجُو بَرَكَتَہُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ: ((أصبت)) . مُتَّفق عَلَيْہِ
ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لایا کرتے اور وہیں قیلولہ فرمایا کرتے تھے،وہ چمڑے کی چٹائی بچھا دیتیں اور آپ اس پر قیلولہ فرماتے،آپ کو پسینہ بہت آتا تھا،وہ آپ کا پسینہ جمع کر لیتیں اور پھر اسے خوشبو میں شامل کر لیتیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ام سلیم! یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: آپ کا پسینہ ہے،ہم اسے اپنی خوشبو کے ساتھ ملا لیتے ہیں،آپ کا پسینہ ایک بہترین خوشبو ہے،ایک دوسری روایت میں ہے۔انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے لیے برکت حاصل کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے ٹھیک کیا۔‘‘ متفق علیہ۔