Mishkaat ul Masabeeh Hadith 6052 (مشکوۃ المصابیح)
[6052] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (1/ 456 ح 3662) ٭ فیہ أبو نھشل: مجھول و أبو النضر ھاشم بن القاسم سمع من المسعودي بعد اختلاطہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن ابْن مَسْعُود قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأُسَارَی يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِہِمْ فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی [لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُم عَذَاب عَظِيم] وَبِذِكْرِہِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ ﷺ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَہُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی [وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعا فَاسْأَلُوہُنَّ من وَرَاء حجاب] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ ﷺ: ((اللہُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ)) وَبِرَأْيِہِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أول نَاس بَايعہ. رَوَاہُ أَحْمد
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،عمر بن خطاب ؓ کو چار چیزوں کی وجہ سے دیگر لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی،انہوں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا،اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:’’اگر اللہ کی کتاب میں یہ حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو تم نے جو (فدیہ) لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔‘‘ اور ان کا حجاب کے متعلق فرمانا،انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ پردہ کیا کریں،تو زینب ؓ نے انہیں فرمایا: ابن خطاب! کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں جبکہ وحی تو ہمارے گھروں میں اترتی ہے،تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:’’اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔‘‘ اور ان کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا:’’اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت فرما۔‘‘ اور ابوبکر ؓ کے (خلیفہ ہونے کے) متعلق سب سے پہلی انہیں کی رائے تھی اور انہوں نے ہی سب سے پہلے اُن کی بیعت کی۔اسنادہ ضعیف،رواہ احمد۔