Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 6128 (مشکوۃ المصابیح)

[6128] متفق علیہ، رواہ البخاري (3728) و مسلم (12/ 2966)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن قيس بن حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَی بِسَہْمٍ فِي سَبِيلِ اللہِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةَ وَوَرَقَ السَّمُرِ وَإِنْ كَانَ أَحَدنَا ليضع كَمَا تضع الشَّاة مَالہ خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَی الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَكَانُوا وَشَوْا بِہِ إِلَی عُمَرَ وَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي. مُتَّفق عَلَيْہِ

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: میں عرب میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کی،اور ہماری یہ حالت تھی کہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارا کھانا کیکر کا پھل اور کیکر کے پتے ہوتے تھے،اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح اجابت (مینگنیاں) کیا کرتا تھا وہ (خشک ہونے کی وجہ سے) ایک دوسری کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہوتی تھیں،پھر یہ وقت آیا کہ بنو اسد میرے اسلام کے متعلق مجھ پر نکتہ چینی کرتے ہیں،اگر ایسے ہو تو میں نامراد ہوا اور میرے عمل برباد ہو گئے،اور وہ (بنو اسد) ان (سعد ؓ) کے متعلق عمر ؓ سے شکایت کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے۔متفق علیہ۔