Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 6246 (مشکوۃ المصابیح)

[6246] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (3010)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ: ((يَا جَابِرُ مَا لي أَرَاك منكسراً)) قلت يَا رَسُول اللہ اسْتشْہد أبي قتل يَوْم أحد وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي اللہ بِہِ أَبَاك قَالَ قُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللہُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حجاب وَأَحْيَا أَبَاك فَكَلمہُ كفاحا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عز وَجل إِنَّہ قد سبق مني أَنہم إِلَيْہَا لَا يرجعُونَ قَالَ وأنزلت ہَذِہِ الْآيَةِ [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللہِ أَمْوَاتًا] الْآيَة. رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے ملاقات کی تو فرمایا:’’جابر! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مغموم دیکھ رہا ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا: میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے بچے اور قرض چھوڑا ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تیرے والد سے ملاقات فرمائی؟‘‘ میں نے عرض کیا،ضرور اللہ کے رسول! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اللہ نے جس سے بھی کلام فرمایا،پس پردہ کلام فرمایا،اور تیرے والد کو زندہ کیا تو اس سے حجاب کے بغیر کلام فرمایا،فرمایا: میرے بندے! تمنا کر،میں تجھے عطا کروں گا۔انہوں نے عرض کیا: رب جی! تو مجھے زندہ فرما تا کہ میں تیری خاظر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں،رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری طرف سے فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ واپس نہیں جائیں گے۔‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی:’’اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والوں کو مردہ مت کہو۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ الترمذی۔