Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 108 (سنن النسائي)

[108]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ وَہُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِيُّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَتَخَلَّفْتُ مَعَہُ فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَہُ قَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ فَأَتَيْتُہُ بِمِطْہَرَةٍ فَغَسَلَ يَدَيْہِ وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ ذَہَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْہِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاہُ عَلَی مَنْكِبَيْہِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِہِ وَعَلَی الْعِمَامَةِ وَعَلَی خُفَّيْہِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک سفر میں) اللہ کے رسول ﷺ (لوگوں سے) پیچھے رہ گئے۔میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’کیا تیرے پاس پانی ہے؟‘‘ چنانچہ میں آپ کے پاس لوٹا لایا تو آپ نے اپنی ہتھیلیاں دھوئیں اور چہرہ دھویا،پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانے لگے مگر جبے کی آستین تنگ تھی تو آپ نے جبے کو کندھوں پر ڈال لیا،پھر اپنے بازو دھوئے اور اپنی پیشانی،پگڑی اور موزوں پر مسح فرمایا۔