Sunan Al-Nasai Hadith 130 (سنن النسائي)
[130]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا بَہْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللہُ عَنْہُ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَأَخَذَ مِنْہُ كَفًّا فَمَسَحَ بِہِ وَجْہَہُ وَذِرَاعَيْہِ وَرَأْسَہُ وَرِجْلَيْہِ ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَہُ فَشَرِبَ قَائِمًا وَقَالَ إِنَّ نَاسًا يَكْرَہُونَ ہَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَفْعَلُہُ وَہَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ
حضرت نزال بن سبرہ سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی،پھر لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیٹھ گئے۔جب عصر کا وقت ہوا تو آپ کے پاس پانی کا ایک تھال لایا گیا۔آپ نے اس سے ایک چلو پانی لیا اور اپنے چہرے،بازوؤں،سر اور پاؤں پر مل لیا،پھر بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پی لیا اور فرمایا کہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں جبکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے اور یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا پہلا وضو نہیں ٹوٹا۔