Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 174 (سنن النسائي)

[174] إسنادہ ضعیف

مطلب بن عبد اللہ بن حنطب مدلس ولم یصرح بالسماع۔

وروی أحمد (1/ 366 ح 3464) بسند صحیح عن سلیمان بن یسار أنہ سمع ابن عباس ورأی أبا ھریرۃ یتوضأ فقال: أتدري مم أتوضأ؟ قال: لا،قال: أتوضأ من أثوار أقط أکلتھا۔قال ابن عباس: ما أبالي مما توضأت،أشھد لرأیت رسول اللہ ﷺ أکل کتف لحم ثم قام إلی الصلاۃ و ما توضأ۔

وانظر الحدیث الآتی (184)

انوار الصحیفہ ص 321، 322

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَیَ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ أَنَّہُ سَمِعَ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ أَجِدُہُ فِي كِتَابِ اللہِ حَلَالًا لِأَنَّ النَّارَ مَسَّتْہُ فَجَمَعَ أَبُو ہُرَيْرَةَ حَصًی فَقَالَ أَشْہَدُ عَدَدَ ہَذَا الْحَصَی أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کیا میں اس کھانے کی وجہ سے وضو کروں جسے میں اللہ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں،صرف اس بنا پر کہ وہ آگ پر پکا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بہت سی کنکریاں جمع کیں اور فرمایا: ’’میں ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آگ پر پکی ہوئی چیز (کھانے) سے وضو کرو۔‘‘