Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 186 (سنن النسائي)

[186]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْہِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَہُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّی إِذَا كَانُوا بِالصَّہْبَاءِ وَہِيَ مِنْ أَدْنَی خَيْبَرَ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ فَأَمَرَ بِہِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَی الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (سوید) غزوۂ خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے حتی کہ جب لشکر صہباء میں پہنچا،اور وہ خیبر سے قریب ترین علاقہ ہے،تو آپ نے عصر کی نماز پڑھائی،پھر آپ نے اپنا اپنا زاد راہ لانے کا حکم دیا تو صرف ستو ہی لائے گئے،آپ نے حکم دیا تو ستو پانی میں بھگوئے گئے،پھر آپ نے کھائے اور ہم نے بھی کھائے،پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔آپ نے صرف کلی کی اور ہم نے بھی کلی ہی کی،پھر آپ نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔