Sunan Al-Nasai Hadith 214 (سنن النسائي)
[214]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قِيلَ لَہَا أَنَّہُ عِرْقٌ عَانِدٌ فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّہْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں استحاضہ (بے قاعدہ خون آتا) تھا۔اسے کہا گیا: تحقیق یہ ایک سرکش رگ ہے۔اور اسے حکم دیا گیا کہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو مقدم کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے۔اسی طرح مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء کو جلدی پڑھے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔