Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 311 (سنن النسائي)

[311]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتَّی إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی الْتِمَاسِہِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ وَلَيْسُوا عَلَی مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَہُمْ مَاءٌ فَأَتَی النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ فَقَالُوا أَلَا تَرَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللہِ ﷺ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَی مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَہُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ وَاضِعٌ رَأْسَہُ عَلَی فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَی مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَہُمْ مَاءٌ قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللہُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِہِ فِي خَاصِرَتِي فَمَا مَنَعَنِي مِنْ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَلَی فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا ہِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے حتی کہ جب ہم بیداء یا ذات الحبیش مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔اللہ کے رسول ﷺ اس کو تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے۔لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے جب کہ نہ وہاں پانی تھا اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔کچھ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور (شکایتاً) کہا: آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ اور لوگوں کو ٹھہرا لیا ہے جب کہ نہ تو یہاں پانی ہے اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔(یہ باتیں سن کر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے۔رسول اللہ ﷺ میری رات پر سر رکھ کر سو رہے تھے۔وہ آکر کہنے لگے: تم نے اللہ کے رسول ﷺ اور لوگوں کو روک رکھا ہے جب کہ نہ یہاں پانی ہے اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خوب ڈانٹا اور جو کہنا چاہا،کہا اور وہ میرے پہلو میں کچو کے مارنے لگے۔میں حرکت کرنے سے صرف اس لیے رکی رہی کہ رسول اللہ ﷺ میری رات پر تھے۔اللہ کے رسول ﷺ سوئے رہے حتی کہ بغیر پانی کے صبح ہوگئی۔تو اللہ تعالیٰ نے تیمم والی آیت اتار دی۔حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ تمھاری کوئی پہلی برکت نہیں۔حضرت عائشہ نے کہا: پھر ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں تھی تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔