Sunan Al-Nasai Hadith 341 (سنن النسائي)
[341]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْہَا ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاہَا فَسَكَبْتُ لَہُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ ہِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْہُ فَأَصْغَی لَہَا الْإِنَاءَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْہِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِنَّہَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا ہِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ
حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے۔میں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا۔اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی۔انھوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا (تاکہ وہ اچھی طرح پی سکے۔) کبشہ نے کہا: چنانچہ انھوں نے مجھنے دیکھا کہ میں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں تو وہ کہنے لگے: اے بھتیجی! تعجب کرتی ہے؟ میں نے کہا: ہاں! وہ کہنے لگے: تحقیق اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: ’’بلاشبہ یہ (بلی) پلید نہیں ہے۔یہ تو تم پر آنے جانے والے (نوکروں اور نوکرانیوں) کی طرح ہے۔