Sunan Al-Nasai Hadith 422 (سنن النسائي)
[422]إسنادہ صحیح✷
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ہُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ وَاتَّسَقَتْ الْأَحَادِيثُ عَلَی ہَذَا يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ عَلَی يَدِہِ الْيُمْنَی مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَہُ الْيُمْنَی فِي الْإِنَاءِ فَيَصُبُّ بِہَا عَلَی فَرْجِہِ وَيَدُہُ الْيُسْرَی عَلَی فَرْجِہِ فَيَغْسِلُ مَا ہُنَالِكَ حَتَّی يُنْقِيَہُ ثُمَّ يَضَعُ يَدَہُ الْيُسْرَی عَلَی التُّرَابِ إِنْ شَاءَ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَی يَدِہِ الْيُسْرَی حَتَّی يُنْقِيَہَا ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْہِ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ وَيُمَضْمِضُ وَيَغْسِلُ وَجْہَہُ وَذِرَاعَيْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا حَتَّی إِذَا بَلَغَ رَأْسَہُ لَمْ يَمْسَحْ وَأَفْرَغَ عَلَيْہِ الْمَاءَ فَہَكَذَا كَانَ غُسْلُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِيمَا ذُكِرَ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا۔۔۔اور احادیث اس بیان پر متفق ہیں۔۔۔(تو آپ نے فرمایا) ’’سب سے پہلے اپنے دائیں ہاتھ پر دو یا تین دفعہ (براہ راست برتن سے) پانی ڈالے،پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالے اور بایاں شرم گاہ پر ہو۔اس سے اس کی آلودگی دھوئے حتی کہ اسے بالکل صاف کردے،پھر اگر چاہے تو اپنا بایاں ہاتھ مٹی پر ملے،پھر بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح صاف کرلے،پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھوئے اور کلی اور استنشاق کرے اور چہرے اور بازوؤں کو تین دفعہ دھوئے حتیٰ کہ جب سر تک پہنچے تو مسح نہ کرے بلکہ سر پر پانی ڈالے۔‘‘ ایسے ی اللہ کے رسول ﷺ کا غسل ذکر کیا گیا ہے۔
✷قال معاذ علی زئی: یحییٰ بن ابی کثیر تابعہ عمرو بن سعد الفدکی وسندہ صحیح،وانظر ھامش فی مخطوطۃ النسائی وفتح الباری لابن رجب الحنبلی (1/ 236)