Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 432 (سنن النسائي)

[432]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَہْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ يُصَلِّي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّةً

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔مجھے ایک ماہ کی مسافت تک رعب عطا فرمایا گیا،اور میرے لیے زمین کو نماز کی جگہ اور ذریعہ طہارت بنایا گیا،لہٰذا میری امت کے آدمی کو جہاں بھی نماز پالے،وہ پڑھ لے،اور مجھے شفاعت عامہ دی گئی جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی،اور مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جب کہ دوسرے نبی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔‘‘