Sunan Al-Nasai Hadith 452 (سنن النسائي)
[452]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللہِ ﷺ انْتُہِيَ بِہِ إِلَی سِدْرَةِ الْمُنْتَہَی وَہِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَإِلَيْہَا يَنْتَہِي مَا عُرِجَ بِہِ مِنْ تَحْتِہَا وَإِلَيْہَا يَنْتَہِي مَا أُہْبِطَ بِہِ مِنْ فَوْقِہَا حَتَّی يُقْبَضَ مِنْہَا قَالَ إِذْ يَغْشَی السِّدْرَةَ مَا يَغْشَی قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَہَبٍ فَأُعْطِيَ ثَلَاثًا الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيُغْفَرُ لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِہِ لَا يُشْرِكُ بِاللہِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کروائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔اور وہ (اس کی جڑ) چھٹے آسمان میں ہے۔نیچے سے جو چیز اوپر جاتی ہے وہ وہاں جاکر رک جاتی ہے۔اور اوپر سے جو کچھ اترتا ہے وہ بھی وہاں آکر رک جاتا ہے،حتیٰ کہ وہاں سے وصول کرلیا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اذ یغشی السدرۃ ما یغشی) (النجم۵۳:۱۶) سے مراد سونے کے پتنگے ہیں (جنھوںنے سدرۃ المنتہیٰ کو ڈھانپ رکھا تھا۔) وہاں آپ کو تین چیزیں عطا فرمائی گئیں: پانچ نمازیں،سورۂ بقرہ کی آخری آیات اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کے کبائر معاف کردیے جائیں گے جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا تھا۔