Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 466 (سنن النسائي)

[466] إسنادہ ضعیف

ترمذی (413)

انوار الصحیفہ ص 323

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ ہُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ الْخَزَّازُ قَالَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ قُلْتُ اللہُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَجَلَسْتُ إِلَی أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي دَعَوْتُ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ لَعَلَّ اللہَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ بِصَلَاتِہِ فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ قَالَ ہَمَّامٌ لَا أَدْرِي ہَذَا مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ أَوْ مِنْ الرِّوَايَةِ فَإِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِہِ شَيْءٌ قَالَ انْظُرُوا ہَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلُ بِہِ مَا نَقَصَ مِنْ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِہِ عَلَی نَحْوِ ذَلِكَ خَالَفَہُ أَبُو الْعَوَّامِ

حضرت حریث بن قبیصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مدینہ آیا تو میں نے دعا کی: اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشین میسر فرما۔پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی میسر ہوئی۔میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ہم نشین میسر فرما،لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔امید ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے گا۔آپ نے بیان کیا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے سنا: ’’سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔اگر وہ درست ہوئی تو وہ کامیاب و کامران ہوگیا۔اور اگر وہ خراب ہوئی تو وہ ناکام رہا اور خسارے میں گیا۔‘‘ ہمام کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ یہ الفاظ قتادہ کے ہیں یا روایت(حدیث) کے ہیں۔’’اگر اس کے فرضوں میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: (اے فرشتو!) دیکھو،کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہیں؟ تو ان کے ساتھ اس کے فرضوں کی کمی پوری کی جائے گی۔پھر باقی اعمال میں بھی اسی طرح (حساب) ہوگا۔‘‘ حضرت ابوعوام نے سند میں حضرت ہمام کی مخالفت کی ہے۔