Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4660 (سنن النسائي)

[4660]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ،مِنْہُمْ يُونُسُ،وَاللَّيْثُ،أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ،فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ،إِنِّي كَاتَبْتُ أَہْلِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي،وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِہَا شَيْئًا،فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَةُ وَنَفِسَتْ فِيہَا: ارْجِعِي إِلَی أَہْلِكِ،فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَہُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا،وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي،فَعَلْتُ،فَذَہَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَی أَہْلِہَا،فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْہِمْ،فَأَبَوْا وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ،وَيَكُونَ ذَلِكِ لَنَا،فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: ((لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْہَا،ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي،فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ)) فَفَعَلَتْ،وَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللہَ تَعَالَی،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ،فَمَا بَالُ النَّاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللہِ،مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللہِ فَہُوَ بَاطِلٌ،وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ،قَضَاءُ اللہِ أَحَقُّ،وَشَرْطُ اللہِ أَوْثَقُ،وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ))

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اے عائشہ! میں نے اپنے مالکان سے نو اوقیے پر آزادی کا معاہدہ کیا ہے۔ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا،لہٰذا میری مدد فرمایئے۔ابھی تک اس نے اپنی کتابت کی رقم سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ وہ اسے آزاد کر دیں،اس لیے انھوں نے اس کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں میں ان کو یہ (ان کی رقم) یکمشت ادا کردوں اور تیری ولا لوں گی تو میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئی اور یہ بات انھیں پیش کی۔انھوں نے انکار کیا اور کہنے لگے: اگر وہ ثواب حاصل کرنے کے لیے تجھے آزاد کرنا چاہیں تو کر دیں لیکن ولا ہماری ہو گی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہﷺ سے ذکر کی۔آپ نے فرمایا: ’’ان اس بات کی وجہ انکار نہ کرنا بلکہ خرید کر آزاد کر دو۔ولا اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔‘‘ انھوں نے ایسے ہی کیا۔پھر رسول اللہﷺ لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی،پھر فرمایا: ’’اما بعد! کیا وجہ ہے کہ لوگ سودے کرتے وقت ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ کی رو سے جائز نہیں؟ جو شخص بھی ایسی شرط لگائے گا جو کتاب اللہ کی رو سے جائز نہ ہو تو وہ باطل اور مردود ہو گی اگرچہ سو دفعہ لگائی گئی ہو۔اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی صحیح ہے اور اللہ تعالیٰ کی جائز کردہ شرطیں ہی معتبر ہیں۔یاد رکھو! ولا اسی کی ہو گی جو آزاد کرے گا۔‘‘