Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4717 (سنن النسائي)

[4717]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ،قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ،عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ،وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،أَنَّہُمَا حَدَّثَاہُ،أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ لَہُمَا،فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ،فَقُتِلَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَہْلٍ،فَجَاءَ أَخُوہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَہْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا عَمِّہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيہِ،وَہُوَ أَصْغَرُ مِنْہُمْ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((الْكُبْرَ)) لِيَبْدَأِ الْأَكْبَرُ فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِہِمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاہَا: ((يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ)) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ،أَمْرٌ لَمْ نَشْہَدْہُ كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ: ((فَتُبَرِّئُكُمْ يَہُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْہُمْ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ،قَوْمٌ كُفَّارٌ،فَوَدَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِہِ،قَالَ: سَہْلٌ فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَہُمْ فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ

حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے خیبر گئے اور کھجوروں کے درختوں میں الگ الگ ہوگئے۔حضرت عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ان کا بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور اس کے چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔عبدالرحمٰن نے اپنے بھائی کے بارے میں بات شروع کی جبکہ وہ ان تینوں میں سے چھوٹے تھے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بڑے کو بات کرنی چاہیے۔‘‘ پھر ان دو بھائیوں نے اپنے مقتول کے بارے میں بات کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں۔‘‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو موقع پر موجود نہیں تھے۔ہم کیسے قسمیں اٹھائیں؟ آپ نے فرمایا: ’’پھر یہودی پچاس قسمیں دے کر تم سے بری ہو جائیں گے۔‘‘ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! وہ کافر لوگ ہیں۔(ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟) تو رسول اللہﷺ نے اپنی طرف سے مقتول کی دیت ادا کر دی۔حضرت سہل رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں ان کے اونٹوں کے باڑے میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔