Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4782 (سنن النسائي)

[4782] إسنادہ ضعیف

ابو داود (4534) ابن ماجہ (2638)

انوار الصحیفہ ص 356

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،عَنْ مَعْمَرٍ،عَنْ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَہْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا،فَلَاحَّہُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِہِ،فَضَرَبَہُ أَبُو جَہْمٍ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللہِ،فَقَالَ: ((لَكُمْ كَذَا وَكَذَا)) فَلَمْ يَرْضَوْا بِہِ. فَقَالَ: ((لَكُمْ كَذَا وَكَذَا)) فَرَضُوا بِہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُہُمْ بِرِضَاكُمْ)) قَالُوا: نَعَمْ،فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ ہَؤُلَاءِ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ،فَعَرَضْتُ عَلَيْہِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا)) قَالُوا: لَا فَہَمَّ الْمُہَاجِرُونَ بِہِمْ،فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا،فَكَفُّوا،ثُمَّ دَعَاہُمْ قَالَ: ((أَرَضِيتُمْ؟)) قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: ((فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُہُمْ بِرِضَاكُمْ)) قَالُوا: نَعَمْ،فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: ((أَرَضِيتُمْ؟)) قَالُوا: نَعَمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ایک آدمی نے صدقہ دینے کے بارے میں جھگڑا کیا تو حضرت ابو جہم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کو مارا۔وہ لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسولک! ہمیں قصاص چاہیے۔آپ نے فرمایا: ’’تمھیں اتنا معاوضہ دیتا ہوں۔‘‘ وہ راضی نہ ہوئے۔آپ نے فرمایا: ’’اچھا تم اتنا (اور) لے لو۔‘‘ آخر وہ راضی ہو گئے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میں لوگوں کے سامنے خطبہ دے کر انھیں تمھارے راضی ہونے کی خبر دیتا ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔نبی اکرمﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ’’یہ لوگ میرے پاس قصاص لینے آئے تھے۔میں نے انھیں اتنے مال کی پیش کش کی تو یہ راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ لیکن وہ لوگ کہنے لگے: ہم راضی نہیں۔مہاجرین نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا لیکن آپ نے ان کو روک دیا۔وہ رک گئے۔آپ نے پھر ان کو بلایا اور فرمایا: ’’کیا تم اب راضی ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: جی ہاں۔آپ نے فرمایا: ’۔میں پھر لوگوں سے خطاب کروں گا اور انھیں بتاؤں گا کہ تم راضی ہوگئے ہو۔‘‘ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔آپ نے لوگوں سے سے خطاب فرمایا اور ان سے پوچھا: ’’تم راضی ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: جی ہاں۔