Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4870 (سنن النسائي)

[4870]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ،قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِيِّ،عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ،أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ: عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا،ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا،ثُمَّ اہْتَدَی،فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَنَّی لَہُ التَّوْبَةُ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَجِيءُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُہُ دَمًا يَقُولُ: سَلْ ہَذَا فِيمَ قَتَلَنِي،ثُمَّ قَالَ: وَاللہِ لَقَدْ أَنْزَلَہَا وَمَا نَسَخَہَا

حضرت سالم بن ابوالجعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مومن شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دے۔پھر توبہ کرے،ایمان لے آئے اور نیک عمل شروع کر دے۔پھر راہ راست پر آجائے۔(کیا اس کی توبہ قبول ہے؟) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اس کے لیے توبہ کی گنجائش کیسے ہو سکتی ہے؟ میں نے تمہارے نبی اکرمﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’مقتول قاتل کو پکڑ کر لائے گا جب کہ مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہا ہوگا: یا اللہ! اس سے پوچھ،اس نے مجھے کس بنا پر قتل کیا؟‘‘ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ (پچھلی حدیث میں مذکور) آیت اللہ نے اتاری ہے اور اسے منسوخ نہیں فرمایا۔