Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4960 (سنن النسائي)

[4960]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ قَالَ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ فَإِذَا ضَمَّہُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ فَإِذَا آوَی الْمُرَاحَ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ

حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہاتھ کتنے (مال) میں کاٹا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ’’درخت پر لگے ہوئے پھل توڑنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،البتہ جب پھل توڑ کر ڈھیر لگا دیا گیا ہو تو ڈھال کی قیمت کے برابر چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جائے گا۔(اسی طرح) پہاڑ پر چرتی بکری چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،البتہ بکری باڑے میں آجائے تو پھر اسے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا بشرطیکہ اس کی قیمت ڈھال سے کم نہ ہو۔