Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4962 (سنن النسائي)

[4962]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْہِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ تَرَی فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ فَقَالَ ہِيَ وَمِثْلُہَا وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاہُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيہِ قَطْعُ الْيَدِ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيہِ غَرَامَةُ مِثْلَيْہِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ تَرَی فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَالَ ہُوَ وَمِثْلُہُ مَعَہُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاہُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنْ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيہِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيہِ غَرَامَةُ مِثْلَيْہِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والی بکری (یا کسی اور جانور) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’دگنی قیمت اور جسمانی سزا۔جانور کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،الا یہ کہ وہ جانور باڑے میں ہو اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر یا اس سے زائد ہو تو پھر اس کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر اس کی قیمت اس سے کم ہو تو دگنی قیمت لی جائے گی اور بطور سزا کوڑے لگائے جائیں گے۔‘‘ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! درخت پر لگے ہوئے پھل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اس میں بھی دگنی قیمت اور جسمانی سزا۔درخت پر لگے ہوئے پھل کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔البتہ اگر پھل کھلیان میں لگا دیا جائے،اس کے بعد چوری ہو اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر یا زائد ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔اگر پھل ڈھال کی قیمت سے کم ہو تو چور سے دگنی قیمت لی جائے گی اور جسمانی سزا کے طور پر کوڑے بھی لگائے جائیں گے۔‘‘