Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 512 (سنن النسائي)

[512]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِہِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ الظُّہْرِ وَدَارُہُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْہِ قَالَ أَصَلَّيْتُمْ الْعَصْرَ قُلْنَا لَا إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنْ الظُّہْرِ قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ قَالَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ جَلَسَ يَرْقُبُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّی إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ فِيہَا إِلَّا قَلِيلًا

حضرت علاء بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے جب کہ وہ (علاء) ظہر سے فارغ ہوئے تھے،اور حضرت انس کا گھر مسجد کے ساتھ ہی تھا۔جب ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں،ہم تو ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں۔آپ نے فرمایا: پھر عصر کی نماز پڑھو۔ہم اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: میں نےر سول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’یہ منافق کی نماز ہے۔وہ بیٹھا عصر کی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو وہ اٹھتا ہے،چار ٹھونگے (چونچیں) مارتا ہے اور اس دوران میں اللہ کا ذکر بھی نہیں کرتا مگر تھوڑا۔‘‘