Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5198 (سنن النسائي)

[5198]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَہْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ وَعَلَيْہِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ مَا لِي أَرَی عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَہْلِ النَّارِ فَطَرَحَہُ ثُمَّ جَاءَہُ وَعَلَيْہِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَہٍ فَقَالَ مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ فَطَرَحَہُ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُہُ قَالَ مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّہُ مِثْقَالًا

حضرت بریدہ﷜ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبئ اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھ پر جہنمیوں کا زیور دیکھتا ہوں؟ اس نے اسے اتار پھینکا۔پھر وہ آپ کے پاس آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی ڈالی ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بو پاتا ہوں؟ اس نے اسے بھی اتار پھینکا(اور) کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ نے فرمایا: چاندی سے اور اسے بھی ایک مثقال سے کم رکھنا۔