Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 525 (سنن النسائي)

[525] إسنادہ ضعیف

الحسین بن بشیر بن سلام الأنصاري مجھول الحال،ذکرہ ابن حبان وحدہ فی الثقات (6/ 206)

انوار الصحیفہ ص 324

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْأَنْصَارِيِّ فَقُلْنَا لَہُ أَخْبِرْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَذَاكَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَصَلَّی الظُّہْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَكَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَظِلِّ الرَّجُلِ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّی مِنْ الْغَدِ الظُّہْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ طُولَ الرَّجُلِ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَيْہِ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ سَيْرَ الْعَنَقِ إِلَی ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَاءَ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ شَكَّ زَيْدٌ ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ

بشیر بن سلام نے کہا کہ میں اور حضرت محمد بن علی (باقر) رحمہ اللہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بتائیے،اور حجاج بن یوسف کا دور تھا۔انھوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی جب سورج ڈھل گیا اور ابھی سایہ تسمے کے برابر تھا۔پھر عصر کی نماز پڑھی جبکہ سایہ آدمی کے قد اور ایک تسمے کے برابر تھا (ایک مثل سے ایک تسمے کی مقدار کے برابر بڑا تھا۔) پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہوگیا۔پھر عشاء کی نماز پڑھی جب سرخی غائب ہوئی۔پھر فجر کی نماز پڑھی جب فجر طلوع ہوئی۔پھر اگلے دن ظہر کی نماز پڑھی جب سایہ آدمی کے قد کے برابر تھا۔پھر عصر کی نماز پڑھی جب آدمی کا سایہ دگنا ہوگیا اور اتنا وقت باقی تھا کہ ایک اونٹ سوار درمیانی تیز چال سے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا،پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج ڈوب چکا تھا،پھر عشاء کی نماز تہائی یا نصف رات کے وقت پڑھی،پھر فجر کی نماز خوب روشنی میں پڑھی۔