Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5252 (سنن النسائي)

[5252]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ہِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ بِنْتًا لِي عَرُوسٌ وَإِنَّہَا اشْتَكَتْ فَتَمَزَّقَ شَعْرُہَا فَہَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ وَصَلْتُ لَہَا فِيہِ فَقَالَ لَعَنَ اللہُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ

حضرت اسماءؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی کی شادی تازہ تازہ ہوئی ہو۔وہ بیمار ہو گئی اور اس کے بال جھڑ گئے۔اگر میں ان میں مصنوعی بالوں سے اضافہ کرلوں تو کیا میں گناہ گار ہوں گی؟ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگاانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘