Sunan Al-Nasai Hadith 5295 (سنن النسائي)
[5295]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ وَجَعَلَ فَصَّہُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّہِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ فَأَلْقَاہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ لَا أَلْبَسُہُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَأَدْخَلَہُ فِي يَدِہِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّی ہَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ
حضرت ابن عمر نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا۔لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ’’میں آئندہ اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی اور اسے اپنے دست مبارک میں پہنا۔پھر وہ حضرت ابو بکر کے ہاتھ میں رہی پھرحضرت عمر کے ہاتھ میں پھر حضرت عثمان کے ہاتھ میں حتی کہ وہ اریش کےکنویں میں گم ہو گئی۔