Sunan Al-Nasai Hadith 5304 (سنن النسائي)
[5304]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ عَنْ خَالِدٍ وَہُوَ ابْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ إِنَّ سَعْدًا كَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ وَأَطْوَلَہُ ثُمَّ بَكَی فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ بَعَثَ إِلَی أُكَيْدِرٍ صَاحِبِ دُومَةَ بَعْثًا فَأَرْسَلَ إِلَيْہِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجَةٍ فِيہَا الذَّہَبُ فَلَبِسَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثُمَّ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَقَعَدَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَنَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَہَا بِأَيْدِيہِمْ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ ہَذِہِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ
حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذسے روایت ہے کہ جب حضرت انس بن مالک مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں ان کے پاس حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔انہوں نے کہا: تو کن میں سے ہے؟ میں نے کہا: میں واقدبن عمروہوں۔حضرت سعد بن معاذ کا پوتا۔انہوں نے کہا: حضرت سعد بڑے سردار اور لمبے قد کے آدمی تھے۔پھر(ان کو یاد کرکے) روئے اور بہت روئے پھر فرمایا: رسول اللہﷺ نے دومتہ الجندل کے حکمران اکیدر کی طرف ایک لشکر بھیجا تو اس نے (اطاعت قبول کی اور) آپ کی خدمت میں ریشم کا ایک حلہ بھیجا جوسونے کے تاروں سے بنا گیا تھا۔رسول اللہﷺ نے اسے زیب تن کیا پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے۔صرف بیٹھے رہے۔کوئی تقریر نہیں فرمائی۔کچھ دیر بعد اتر آئے۔لوگ ہاتھ لگا لگا کر حلے کو دیکھتے تھے۔آپ نے فرمایا:’’کیاتم اس (کی عمدگی او رنرمی) پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! (حضرت) سعد بن معاذ کے (ہاتھ منہ کی صفائی والے) رومال جنت میں اس سے کہیں بڑھ کر خوب صروت ہیں۔‘‘