Sunan Al-Nasai Hadith 533 (سنن النسائي)
[533]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخَّرَ النَّبِيُّ ﷺ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّی ذَہَبَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ فَنَادَی الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللہِ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِہِ وَہُوَ يَقُولُ إِنَّہُ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے،انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز مؤخر کی حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزرگیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا۔اے اللہ کے رسول! نماز کے لیے تشریف لائیے۔عورتیں اور بچے سوگئے۔رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو پانی کے قطرے آپ کے سر سے گر رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: ’’یہ ہے عشاء کی نماز کا اصل وقت،اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔‘‘