Sunan Al-Nasai Hadith 5374 (سنن النسائي)
[5374] إسنادہ ضعیف
ترمذی (2327) ابن ماجہ (4103)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَہْمٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ نَزَلْتُ عَلَی أَبِي ہَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَہُوَ طَعِينٌ فَأَتَاہُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُہُ فَبَكَی أَبُو ہَاشِمٍ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ عَلَی الدُّنْيَا فَقَدْ ذَہَبَ صَفْوُہَا قَالَ كُلٌّ لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَہِدَ إِلَيَّ عَہْدًا وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُہُ قَالَ إِنَّہُ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللہِ فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ
حضرت سمرہ بن سہم سے روایت ہے کہ میں حضرت ہاشم عتبہ کا مہمان بنا۔ان کو طاعون کا عرضہ لاحق ہوچکا تھا۔ھضرت معاویہ ان کی بیمارپرسی کے لیے آئے تو حضرت ابو ہاشم رونے لگے۔حضرت معاویہ نے فرمایا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کوئی تکلیف آپ کو بے چین کر رہے ہے؟ یا دنیا (سے جانے) کا غم ہے جب کہ آپ کی دنیا کا بہترین حصہ گزر چکا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ان دونوں میں سے کوئی نصیحت فرمائی تھی۔کاش میں اس پر قائم رہتا آپﷺ نے فرمایا تھا: شاید تجھ پر وہ دور آئے جب لوگوں میں بے تحاشا مال تقسیم کیے جائیں گے۔تجھے صرف ایک نوکر اور ایک سواری جہاد کے لیے کافی ہے۔‘‘ (واقعتاً وہ دور یا مال) میں نے پایا لیکن میں نے زیادہ مال جمع کر لیا۔