Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 538 (سنن النسائي)

[538]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللہِ ﷺ لِعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَہُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُہَا أَہْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَی أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِہِمْ ہَذِہِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے،انھوں نے فرمایا: ہم ایک رات بہت دیر تک عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے۔جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزرگئی تو آپ تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا: ’’تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جس کا انتظار تمھارے علاوہ کسی اور دین والے نہیں کررہے ہیں اور اگر میری امت پر اس وقت نماز پڑھنا بوجھل نہ ہوتا تو میں یقیناً انھیں اس قت نماز پڑھاتا۔‘‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی،پھر آپ نے نماز پڑھائی۔