Sunan Al-Nasai Hadith 5384 (سنن النسائي)
[5384]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَقَالُوا اذْہَبْ مَعَنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً فَذَہَبْتُ مَعَہُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ قَالَ أَبُو مُوسَی فَاعْتَذَرْتُ مِمَّا قَالُوا وَأَخْبَرْتُ أَنِّي لَا أَدْرِي مَا حَاجَتُہُمْ فَصَدَّقَنِي وَعَذَرَنِي فَقَالَ إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا بِمَنْ سَأَلَنَا
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ اشعری لوگ آئے اور کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس چلیں کیونکہ ہمیں (آپ سے) ایک کام ہے۔میں ان کے ساتھ چل پڑا۔وہ آپ سے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں کسی کام پر مقرر فرمائیے۔حضرت ابو موسیٰ نے کہا: میں نے ان کی اس بات پر (آپ سے) معذرت کی اور آپ کو بتلایا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ انہیں کیا کام ہے؟ (ورنہ میں ان کے ساتھ نہ آتا) آپ نے مجھے سچا جانتے ہوئے میری معذرت کو تسلیم فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’ہم کسی ایسے شخص کو اپنے کسی کام پر مقرر نہیں کرت ے جو خود طلب کرے۔‘‘