Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 540 (سنن النسائي)

[540]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ ہَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ ﷺ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَی قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَنْ صَلَّی أَقْبَلَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَيْنَا بِوَجْہِہِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ خَاتَمِہِ فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَی شَطْرِ اللَّيْلِ

حضرت حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی ﷺ نے انگوٹھی بنوائی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں،آپ نے ایک رات عشاء کی نماز تقریباً نصف رات تک مؤخر کی۔جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا چہرہ ہماری طرف کیا اور فرمایا: ’’تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے،نماز ہی میں رہے۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔علی،یعنی ابن حجر کی حدیث کے الفاظ ہیں: ’’نصف رات تک۔‘‘