Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5400 (سنن النسائي)

[5400]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُہَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَتَی عَلَيْنَا حِينٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا ہُنَالِكَ وَإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عَرَضَ لَہُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ فِيہِ بِمَا فِي كِتَابِ اللہِ فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللہِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَی بِہِ نَبِيُّہُ فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللہِ وَلَمْ يَقْضِ بِہِ نَبِيُّہُ ﷺ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَی بِہِ الصَّالِحُونَ وَلَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي أَخَافُ وَإِنِّي أَخَافُ فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِہَةٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَی مَا لَا يَرِيبُكَ

حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷜ نے فرمایا: ہم پر ایک ایسا وقت گزرا کہ ہم فیصلے نہیں کیا کرتے تھے اور نہ ہمارا یہ مرتبہ تھا۔پھر اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم اس درجے کو پہنچے جو تم دیکھ رہے ہو۔اب جس شخص کے سامنے کوئی مسئلہ پیش ہو تو وہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کرے۔اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جو کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو تو وہ نبیٔ اکرمﷺ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرے۔اور اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جو نہ کتاب اللہ میں مذکور ہو اور نہ نبیٔ اکرمﷺ نے اس کی بابت فیصلہ فرمایا ہو تو وہ سلف صالحین کے فیصلے کے مطابق فیصل کرے۔یہ نہ کہے کہ مجے ڈر لگتا ہے۔اور میں خطرہ محسوس کرتا ہوں،اس لیے کہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے،البتہ ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔تو شک و شبہ والی چز کو چھوڑ کر غیر مشتبہ چیز کو اختیار کر۔