Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5401 (سنن النسائي)

[5401]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّہُ كَتَبَ إِلَی عُمَرَ يَسْأَلُہُ فَكَتَبَ إِلَيْہِ أَنْ اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللہِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللہِ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللہِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَاقْضِ بِمَا قَضَی بِہِ الصَّالِحُونَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللہِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَلَمْ يَقْضِ بِہِ الصَّالِحُونَ فَإِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ وَلَا أَرَی التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ

حضرت شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے حضرت عمر﷜ کو خط لکھا۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصل کرو۔اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلہ کرو اور اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ اور رسول اللہﷺ کی سنت میں مذکور نہ ہو تو پھر سلف صالحین کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرو اور اگر وہ مسئلہ نہ کتاب اللہ میں ہو،نہ رسول اللہﷺ کی سنت میں ہو اور نہ اس کے بارے میں سلف صالحین سے کوئی فیصلہ منقول ہو تو پھر تیری مرضی ہے،چاہے تو آگے بڑھ (کر جواب دے) اور چاہے تو پیچھے ہٹ جا (خاموشی اختیار کر)۔اور میرے خیال میں خاموشی ہی تیرے لیے بہتر ہے۔والسلام علیکم