Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5402 (سنن النسائي)

[5402] إسنادہ ضعیف

سفیان الثوري عنعن۔

انوار الصحیفہ ص 363، 364

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْہِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَكَانَ فِيہِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ قِيلَ لِمُلُوكِہِمْ مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا ہَؤُلَاءِ إِنَّہُمْ يَقْرَءُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِكَ ہُمْ الْكَافِرُونَ وَہَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِہِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِہِمْ فَادْعُہُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا فَدَعَاہُمْ فَجَمَعَہُمْ وَعَرَضَ عَلَيْہِمْ الْقَتْلَ أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْہَا فَقَالُوا مَا تُرِيدُونَ إِلَی ذَلِكَ دَعُونَا فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْہَا ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِہِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَہِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَہُ حَمِيمٌ فِيہِمْ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَہْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوہَا مَا كَتَبْنَاہَا عَلَيْہِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَايَتِہَا وَالْآخَرُونَ قَالُوا نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ وَہُمْ عَلَی شِرْكِہِمْ لَا عِلْمَ لَہُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِہِ فَلَمَّا بَعَثَ اللہُ النَّبِيَّ ﷺ وَلَمْ يَبْقَ مِنْہُمْ إِلَّا قَلِيلٌ انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِہِ وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِہِ وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِہِ فَآمَنُوا بِہِ وَصَدَّقُوہُ فَقَالَ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَآمِنُوا بِرَسُولِہِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِہِ أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِہِمْ بِعِيسَی وَبِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَبِإِيمَانِہِمْ بِمُحَمَّدٍ ﷺ وَتَصْدِيقِہِمْ قَالَ يَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِہِ الْقُرْآنَ وَاتِّبَاعَہُمْ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِئَلَّا يَعْلَمَ أَہْلُ الْكِتَابِ يَتَشَبَّہُونَ بِكُمْ أَنْ لَا يَقْدِرُونَ عَلَی شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللہِ الْآيَةَ(الحدید:57:29)

حضرت ابن عباس﷠ نے فرمایا: حضرت عیسیٰ ابن مریم ﷤ کے بعد کچھ ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات و انجیل کو بدل دیا اور ان میں کچھ ایمان پر قائم رہے۔وہ (اصل) تورات پڑھتے تھے۔ان بادشاہوں سے کہا گیا: ہم کوئی گالی اس گالی سے سخت نہیں پاتے جو یہ ہمیں دیتے ہیں کیونکہ یہ پڑھتے ہیں: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے،وہ کافر ہے۔‘‘ اور اس قسم کی دوسری آیات،نیز وہ اپنی قرأت میں ہم پر عملی عیب بھی لگاتے ہیں۔ان کو بلائیں اور انہیں کہیں کہ جس طرح ہم پڑھتے ہیں،وہ بھی اسی طرح پڑھیں اور وہ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح ہمارا ایمان ہے۔بادشاہ نے ان کو بلایا اور ان کو قتل کی دھمکی دی الَّا یہ کہ وہ تورات و انجیل کی صحیح قرأت چھوڑ کر ان کی طرح تبدیل شدہ قرأت کریں۔ان (مومن) لوگوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ تم ہمیں چھوڑ دو۔ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ہمارے لیے کوئی بلند عمارت بنا دو۔پھر ہمیں اس پر چڑھا دو۔ہمیں کوئی یسی چیز دو کہ ہم اپنا کھانا پینا اوپر لے جا سکیں۔ہم تمہارے پاس نہیں آئیں گے۔ایک گروہ نے کہا: ہمیں چھوڑو۔ہم زمین میں گھومتے پھریں گے اور بلا وجہ چکر لگاتے رہیں گے۔اگر تم ہمیں اپنے علاقے میں پکڑ لو تو بے شک ہمیں قتل کر دینا۔ایک اور گروہ نے کہا: ہمارے لیے صحراؤںؓ میں گھر بناد و۔ہم کنویں کھود لیں گے۔اور سبزیاں کاشت کریں گے۔نہ ہم تمہارے پاس آئیں گے،نہ تمہارے قریب سے گزریں گے۔ان قبائل میں سے کوئی قبیلہ بھی ایسا نہ تھا جس کا کوئی دوست اور رشتے دار ان(مومن) لوگوں میں نہ ہو اس لیے انہوں نے یہ باتیں مان لیں پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ’’اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی،ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا،مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بد عت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔‘‘ اور کچھ دوسرے لوگ بھی کہنے لگے کہ ہم تو اس طرح عبادت کریں گے جیسے کہ فلاں (اونچی عمارتوں والے) کرتے ہیں اور ہم بھی اسی طرح گھومتے پھریں گے جیسے یہ گھومتے پھرتے ہیں۔اور ہم بھی آبادیوں سے دور جھونپڑیاں بنالیں گے جس طرح انہوں نےبنائی ہیں،حالانکہ یہ لوگ مشرک تھے اور ان کو ان لوگوں کے ایمان کا کوئی علم نہ تھا جن کی قتدا کا وہ دم بھرتے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے بنیٔ اکرمﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان میں سے بھی چند لوگ ہی رہ گئے تو مناروں والے (راہب لوگ) اپنے مناروں سے اتر آئے اور گھومنے پھرنے والے بھی واپس آگئے اور جھونپڑیوں والے اپنی جھونپڑیوں سے لوٹ آئے۔اور یہ سب لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اورا س کے رسول پر ایمان لاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دوہر اجر عطا فرمائے گا۔‘‘ ایک اجر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تورات و انجیل پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان و تصدیق کا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اللہ تعالیٰ تمہیں نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم (راہ حق پر چلو گے۔‘‘ اس نور سے مراد قرآن مجید اور نبیٔ اکرم ﷺ کی پیروی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ’’تاکہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) جان لیں،یعنی تمہاری مشابہت اختیار کریں (تمہاری طرح ایمان لے آئیں) کہ وہ بذات خود اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی فضل حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔الخ‘‘